سمادھی دیوان ساون مَل چوپڑا
دیوان ساون مل چوپڑا لاہور اور ملتان کے کھتری دیوان تھے. آپ کھتری دیوان کو گورنر بھی کہہ سکتے ہیں. بنیادی طور پر آپ کا تعلق پشاور سے تھا۔ آپ ملک موہن لال کے منشی تھے۔ ہری سنگھ نلوہ کی طرح دیوان چوپڑا بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں اعلیٰ سطح کے کمانڈر تھے.
1823 میں جب مہاراجہ رنجیت سنگھ نے افغان دورانی کے خلاف ملتان کا فیصلہ کن معرکہ لڑا تو دیوان ساون مل چوپڑا اس وقت رنجیت سنگھ کی فوج میں جنرل تھے. اسی معرکے کے بعد ملتان راجہ رنجیت کی ریاست کا حصہ بنا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے دیوان ساون مل چوپڑا کو لاہور کے ساتھ ساتھ ملتان کا بھی کھتری (گورنر) مقرر کیا۔ دیوان ساون مال چوپڑا نے اپنے ماتحت علاقوں علاقوں میں زرعی اصلاحات متعارف کروائیں. 1834 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کہنے پر سردار کرم خان کے ساتھ ایک منصوبے پر دستخط بھی کئے۔ جس کے تحت مزاری جنگجوؤں کو بھی سکھ آرمی میں جگہ دی گئی. سردار کرم جو کہ میر بہرام خان کے چھوٹے بھائی اور مزاری قبیلے کے سربراہ بھی تھے، کی وجہ سے سکھوں اور روجھان کے مزاریوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہوا. ان کے بعد ان کے بیٹے دیوان مول راج چوپڑا نے ملتان کی گورنری سنبھالی، جو ملتان کا انتظام کرنے والے آخری نسلی پنجابی تھے۔
دیوان مول راج کے دور میں لاہور کی افواج کے ہاتھوں دو انگریز افسر مارے گئے تھے۔ نتیجتاً لاہور کا برطانوی باشندہ جان لارنس مول راج کو برخاست کرنا چاہتا تھا۔ رنجیت سنگھ کی بادشاہت سے وفاداری کی بنا پر، اس نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کر دی جو زبردستی رنجیت سنگھ کے پنجاب پر قبضہ کر رہی تھی۔ اس نے ملتان کے قلعے کا بہادری سے دفاع کیا لیکن اس دن اسے شکست ہوئی۔ انگریزوں نے انہیں گرفتار کر کے کلکتہ جیل میں قید کر دیا جہاں 1850 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ دیوان ساون مل چوپڑا کی سمادھی علی پور چٹھہ کے علاوہ ملتان میں بھی ہے۔
یاد رہے کہ 'سمادھ' سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے مراقبہ کرنا۔ جہاں سادھو سنت بیٹھ کر گیان دھیان کرتے تھے اور خدا سے لو لگاتے تھے، اس جگہ کو سمادھی کہا جانے لگا۔ جب یہ سادھو مرتے تھے تو انہیں یہیں دفن کر دیا جاتا تھا، اس لیے سمادھی کا ایک مطلب مزار یا قبرستان بھی ہو گیا۔
No comments:
Post a Comment