آپ وارث شاہ کے مزار کے صدر دروازے سے جھانکیں تو اس کی چار دیواری کے پار آپ کو شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ باؤلی کی عمارت نظر آنے لگے گی. شیر شاہ سوری جس نے پشاور سے کلکتہ تک جرنیلی سڑک کو بنیادی طور پر پختہ کروایا تھا. یہ اسی سڑک پر تعمیر کی گئی جہاں ہزاروں برس بیشتر ہندوستان کے راجاؤں نے ایک شاہراہ تعمیر کی تھی مگر اس سڑک پر سہولیات ، مسافروں اور پیغام بروں کے لئے محفوظ پناہ گاہیں اور سرائے، یہ سب ایک پٹھان نے ہی تعمیر کروایا تھا.
Welcome to the Rich Tapestry of India-Pakistan Heritage! Embark on a captivating journey through the shared history, vibrant cultures, and profound heritage of India and Pakistan. Our website serves as a digital repository, a celebration of the diverse traditions, and a testament to the enduring bonds that tie these two nations. Our key areas are to discover our shared legacy, cultural kaleidoscope, architectural marvels, heritage conservation, and celebrating unity in diversity.
Saturday, January 20, 2024
Baoli Shair Shah Suri
باؤلی کیا ہے، ایسا کنواں جس کے پانی تک پہنچنے کے لئے کوئی راستہ یا سیڑھیاں بنائی جاتی تھی باؤلی کہلاتا تھا۔ ویسے تو شیر شاہ سوری نے بہت سی باؤلیاں تعمیر کروائی تھیں مگر تاریخ کہتی ہے جنڈیالہ شیر خان کی باؤلی تب بھی باؤلیوں میں اپنی مثال آپ تھی اور آج بھی ہے. جنڈیالہ شیر خان کا یہ علاقہ مغل بادشاہ اکبر کی مرہونِ منت تھا. شیر خان جو اکبر کی فوج میں ایک جنرل تھا، اکبر نے یقیناً اس کے کسی کام سے خوش ہو کر اسے ایک وسیع علاقے عنایت کیا جسے اس جنرل شیر خان نے آباد کروایا۔ یہی علاقہ آج جنڈیالہ شیر خان کہلاتا ہے. جنڈیالہ اس لئے کہ یہاں جَنڈ کے بہت قدیم شجر تھے. آپ اس باؤلی کے احاطے میں داخل ہوں تو آپ کا استقبال ایک جھوٹی سنگِ مرمر کی تحتی کرتی ہے. ہم نے تو جب بھی سنا، باؤلی شیر شاہ سوری ہی سنا مگر تحتی کی عبارت کچھ یوں ہے "باؤلی جنڈیالہ شیر خان، مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار". ہمارے بہت سے چوک، علاقے پہلے غیر مسلم تھے جنھیں ہم نے تقسیم کے بعد زبردستی مسلمان کیا یہاں تک کہ دریائے کشن گنگا کو بھی دریائے نیلم کر دیا مگر نہ جانے کیوں باؤلی شیر شاہ سوری کو خواہ مخواہ مغلوں کے کھاتے میں ڈال دیا گیا. بلاشبہ برصغیر پاک و ہند کی زیادہ تر تاریخی عمارات مغلوں نے ہی بنوائی مگر اب ایسا بھی کیا کہ ہر شاہکار کو مغلوں کے کھاتے میں ڈال دیا جائے.
ماضی قریب میں اس باؤلی کے بڑے گنبد تلے ایک تالاب ہوا کرتا تھا اور وہ بچے جو سوکھے کی بیماری کا شکار ہو کر مرنے والے ہوتے تھے انھیں اس تالاب کے پانیوں میں نہلایا جاتا تھا تو وہ صحت مند ہو جاتے تھے۔ اب تالاب خشک ہو چکا ہے لیکن اس باؤلی کے باہر جنڈ کے ایک شجر کے سائے میں ایک ہیڈ پمپ ہے اس کے پانیوں میں بھی یہی تاثیر ہے کیونکہ بنیادی طور پر پانی تو اسی زمین کا ہے ۔ باؤلی میں اگرچہ اب پانی نہیں مگر پھر بھی ٹھمڈک تھی۔ یہاں نیچے موسم بہت بہتر تھا۔ باؤلی کے باہر چلنے والی لُو جب باؤلی کے اندر آتی تھی تو ٹھنڈی ہو جاتی تھی مگر یہاں بھی اصل مسئلہ صفائی ہی ہے. باؤلی کے کنواں تک جاتے ہوئے جو جگہ سب سے ٹھنڈی اور صاف ہونی چاہیے تھی، وہ اتنی ہی گندی اور بدبودار ہے. سوال یہ ہے کہ یہاں گند آتا کہاں سے ہے؟ کیا کوئی ملک دشمن عناصر ہیں جو یہاں کوڑا کرکٹ پھینک کر چلے جاتے ہیں یا پھر کوئی غیبی قوتیں یہ کام کرتی ہیں ۔ یقیناً یہاں کوڑا کرکٹ ان نام نہاد سیاحوں کا ہی پھیلایا ہوا ہے جو سیاحت کا لبادہ اوڑھ کر یہاں آ کر وال چاکنگ کرتے ہیں اور اپنے ساتھ لائے ہوئے چپس اور جوسز کے حالی پیکٹ یہاں پھینک کر چلے جاتے ہیں. پیارے اور بہت ہی پیارے دوستوں، اپنے محبوب کا نام ان تاریخی عمارات پر لکھ دینے سے محبوب آپ کو مل نہیں جائے گا مگر عوام الناس کی جانب سے ملامتیں ضرور وصول کرے گا۔ ایسے پروجیکٹ بار بار نہیں بنتے. اپنے ورثے اور تاریخی عمارات کی حفاظت کرنا سیکھیں. ان سب کو میرے اور آپ کے پیسے سے ہی اسرِ نو تعمیر کیا گیا ہے اور ہمارا پیسہ اتنا فضول تو نہیں کہ ہم انھیں ایسے ہی ضائع کر دیں.
باؤلی کے اوپر ایک سرائے بھی ہے. اوپر سرائے تک جانے اور پھر نیچے آنے کے لئے الگ الگ سیڑھیاں بھی بنائی گئی ہیں ۔ سرائے کا مقصد پنجاب اور کشمیر کے تاجروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ ایک مشترکہ منڈی بھی تشکیل دے سکیں۔ سرائے کے چاروں اطراف کونوں پر ایک ایک گول کمرہ ہے جبکہ درمیان میں بھی ایک بڑا گول کمرہ ہے جبکہ ہر کمرے کے آٹھ دروازے ہیں.
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment