Saturday, January 20, 2024

Umer Hayyat Mahal

 


معلوم نہیں کہ عمر حیات محل کو کس کی نظر لگی۔ نظر بھی لگی یا پھر اس محل کی قسمت میں اجڑ جانا ہی تھا۔ ابھی محل کو آباد ہوئے فقط چار ساڑھے چار سال ہی ہوئے تھے کہ موت نے بھری جوانی میں عمر حیات کو آ لیا۔ جوان فاطمہ حیات کے لئے یہ صدمہ برداشت کرنا یقیناً نا ممکن ہوتا اگر ان کے پاس اپنا واحد سہارا گلزار حیات نہ ہوتا۔ فاطمہ حیات نے مشکل سے اپنی عدت کے دن گزارے۔ دونوں ماں بیٹا اب اس محل میں اکیلے تھے۔ فاطمہ حیات نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے گلزار حیات کی شادی بڑی دھوم دھام سے کرنے کا اعلان کیا ۔ شادی میں قریب کے رشتے داروں کو تو بلایا ہی گیا مگر ہر خاص و عام کو بھی مدعو کیا گیا. گلزار حیات کی شادی کا دعوت نامہ بھی عجب تھا. چنیوٹ کی پہاڑیوں پر چڑھ کر گلزار حیات کی شادی کا اعلان کیا گیا۔ ڈھول کی تھاپ پر منادی رقص کرتا جاتا اور ساتھ یہ اعلان کرتا کہ جو بھی گلزار حیات کی شادی کے اعلان کی آواز سنے وہ اپنے آپ کو شادی میں مدعو تصور کرے. جس کسی کے نتھنوں میں شادی کے پکوان کی مہک جائے، وہ بھی اپنے آپ کو شادی میں مدعو سمجھے۔ الغرض فاطمہ حیات کے اس بر وقت احسن اقدام پر محل کی جاتی خوشیاں لوٹ آئیں.
فاطمہ حیات نے جس دن کو محل کی خوشیوں کی واپسی کا ذریعہ جانا، وہی دن گلزار محل کی مسلسل ویرانی کا باعث بنا. شادی کی جس رات کو گلزار حیات نے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت رات جانا، اسی رات کی صبح گلزار محل کے لئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی.
عمر حیات محل ہر لحاظ سے ایک فن پارہ تھا۔ اسے لکڑی کا تاج محل بھی کہا گیا. محل کی پانچ منزلوں میں بیت الخلا ایک کے اوپر ایک کھڑے تھے یعنی ہر ایک دوسرے سے منسلک تھا. نظام کچھ یوں تھا کہ نیچے ایک کنواں کھودا گیا تھا اور ہر منزل پر ایک ایک چرخی لگی تھی. جو جہاں ہوتا، وہی سے پانی استعمال کر لیتا. محل میں گرم پانی کا بھی خوب انتظام تھا۔ دیواروں کے اندر ہی پرنالے بنے تھے اور ان کے اندر ہی گیزر بنا تھا. پانی گرم کرنے کے لئے کوئلوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔
جب موت سر پر آن پہنچے تو کئی بہانے بن جاتے ہیں. اپنی شادی کی اگلی صبح جب گلزار حیات غسل کے واسطے غسل خانے میں گیا تو وہاں پہلے سے ہی گیس بھری تھی. ہوا کچھ یوں ہو گا کہ گیزر کے نیچے رکھے ہوئے کوئلے کچے ہوں گے جن سے کاربن مونو آکسائیڈ گیس غسل خانے میں جمع ہو گئی. احباب جانتے ہیں کہ یہ ایک زہریلی گیس ہے. جس کی کوئی بو نہیں ہوتی ہے۔ زہریلی اس قدر ہے کہ انسان کا دم گھونٹ دیتی ہے اور چند ہی لمحوں میں انسان دنیاِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے.
شادی والے گھر میں صفِ ماتم بچھ گیا۔ فاطمہ حیات کے لئے یہی قیامت تھی. اس سے بڑھ کر اس کی زندگی میں اور کیا ہو سکتا تھا. جس دن کو فاطمہ نے خوشیوں کا دن جانا تھا، وہی دن اس کے لئے بربادی کا پیغام لایا۔ لوگوں نے اس محل کو ہی منحوس قرار دیا جو پہلے بھری جوانی میں اپنے مالک حیات کو نگل گیا اور اب ان کے اکلوتے بیٹے گلزار حیات کو۔ عمر حیات جب اس دنیا سے انتقال کر گئے تو انھیں قریبی قبرستان میں دفنایا گیا مگر جب اکلوتے بیٹے کی باری آئی تو فاطمہ حیات نے اپنے جگر گوشے کو محل کے صحن میں ہی دفنانے کا فیصلہ کیا. اکیلی فاطمہ شوہر اور بیٹے کے غم میں کب تک زندہ رہتی. بیٹے کے انتقال کے بعد فاطمہ حیات بھی ایک سال کے اندر اندر چل بسیں۔ فاطمہ حیات کو ان کی وصیت کے مطابق بیٹے گلزار کے پہلو میں وہی محل کے صحن میں ہی دفن کیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کے لئے قبرستان بن گیا۔
بعد میں کچھ عرصہ یہ منحوس محل حالی رہا. پھر اسی خاندان کے بڑوں نے محل کو یتیم خانہ بنوا دیا تاکہ مرحومین کے لئے ثواب کا ذریعہ بن سکے. جب خاندان کے بڑے بھی نہ رہے تو یتیم خانے پر کوئی توجہ نہ دے سکا. موقع کا فائدہ اٹھا کر ماچھی برداری کے کچھ لوگوں نے محل پر قبضہ کر لیا. اسی دوران محل کی اوپر والی منزلیں اور چوبارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے. ماچھی برداری کیونکر اس محل کا خیال کرتی. قدرت کو شاید پھر اس فنِ تعمیر پر کچھ رحم آیا اور ڈاکٹر محمد امجد ثاقب چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنر تعنیات ہوئے. یہ وہی امجد ثاقب ہیں جنھوں نے بعد میں یتیم بچوں کے لئے ایک ادارے "اخوت" کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر صاحب کے اس جانب توجہ دینے تک پہلی منزل سے اوپر کی تمام منازل تقریباً ختم ہو چکی تھیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے محل سے ماچھی لوگوں کو باہر نکلوایا اور اس کی بحالی کی جانب توجہ دی مگر یہ توجہ صرف اس ڈاکٹر صاحب کی حد تک ہی رہی. آج بھی عمر حیات محل ضلعی انتظامیہ کے پاس ہے مگر اس پر توجہ دینے کے لئے کوئی امجد ثاقب نہیں. محل کا بقیہ حصہ مسلسل خراب ہو رہا ہے مگر اس جانب توجہ دینے والا کوئی نہیں. عمر حیات محل کے نگران کے مطابق جب کبھی سال میں ایک دو بار کوئی بیرونِ ملک سے آتا ہے تو محل کی صفائی کروا دی جاتی ہے. ورنہ عام دنوں میں محل گرد میں ہی نہایا رہتا ہے.









No comments:

Post a Comment