Saturday, January 20, 2024

Qilla Rakhti Chinniot

 


عمر حیات محل کے پاس ہی قلعہ رختی ہے. مورخین کے مطابق قلعہ رختی ہی اصل میں قلعہ چندن یوٹ ہے جسے چندر گپت موریا کی بیوی رانی چندن نے تعمیر کروایا تھا. موجودہ قلعہ تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال پرانا ہے. اسے 1326 میں سلطان محمد تغلق نے تعمیر کروایا تھا. قلعہ چونے اور پکی چھوٹی اینٹ سے بنایا گیا تھا. قلعہ میں خفیہ سرنگیں بھی تھیں جو دریائے چناب کے پاس جاتی تھیں. محاصرے کی صورت میں قلعے والے انہی سرنگوں سے خوراک و پانی کی بنیادی ضروریات پوری کیا کرتے تھے. قلعہ میں جانے کے دو راستے تھے. ایک ہاتھیوں کے لئے تھا اور دوسرا پیادہ کے لئے. سکندر اعظم بھی چندن گپت موریا کے وقت اسی قلعہ چندر یوٹٹ میں کچھ عرصہ قیام پزیر رہا تھا. سلطان میں تغلق سے یہ قلعہ چنگیز خان کے پاس چلا گیا اور تاتاری قبیلے کا ایک سردار اس کا حاکم بنا. تاتاریوں سے یہ قلعہ مغلوں کے پاس آیا. سکھ شاہی دور میں سردار کرم سنگھ نے اس قلعے کو مغلوں سے حاصل کیا اور یوں یہ قلعہ رنجیت سنگھ کے پاس رہا. ایسٹ انڈیا کمپنی آنے کے بعد قلعہ رختی سمیت ہر قلعہ پر انگریزوں کا ہی راج رہا. آئینِ اکبری میں بھی اس قلعہ کا ذکر ملتا ہے. آئینِ اکبری کے مطابق قلعہ میں تقریباً پانچ سو گھڑ اور ہاتھی سوار موجود ہوتے تھے جبکہ تقریباً پانچ ہزار کی پیادہ فوج اس کے علاوہ تھی.
قلعہ آج نہ صرف کھنڈر بن چکا ہے مگر آس پاس کے لوگوں کا کچرا بھی یہی قلعہ اپنے اندر سماتا ہے










No comments:

Post a Comment