Saturday, January 20, 2024

Shive Temple Ali Pur chatta SIalkot

 

علی پور چٹھہ میں ایک شیو مندر بھی ہے جو ظاہر سی بات ہے اب متروک ہو چکا ہے. جب پجاری نہ ہوں تو پھر کہاں کی عبادت گاہ. اب صرف اس مندر میں بھگوان شیو کی کچھ نشانیاں رہ گئی ہے جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ یہاں کبھی بھگوان شیوا کی پوجا ہوتی تھی. بھگوان شیوا جو تخلیق کار بھی ہے اور تباہ کار بھی. مندر کی ایک دیوار کی شیو اور ان کی بیوی پاروتی کی تصویر نقش ہے. مندر کی دوسری دیوار پر شیراں والی ماں اور ہنومان کا عکس بنایا گیا ہے جبکہ ایک اور دیوار پر بابا گرونانک اور بھائی مردانه کو پینٹ کیا گیا ہے.
شیو مندر کے بالکل سامنے مندر سے ہی منسلک ایک بہت بڑا تالاب بھی ہے جہاں مندر میں پوجا کی غرض سے آنے والے اشنان کیا کرتے تھے. تالاب وسیع و عریض ہے۔ تالاب کے ایک جانب ذرا اونچائی پر الگ سے ایک حوض بھی تعمیر کیا گیا ہے جہاں پر خواتین اشنان کیا کرتی تھیں ۔
اب جبکہ شیوا مندر گدھے، گھوڑوں، گائے بھینس کا مسکن بن چکا ہے تو تالاب کی حالت بھی مندر سے کچھ مختلف نہیں ۔ آس پاس کی آبادی کا سارا کچرا اسی تالاب میں جمع ہے. تالاب اب اپنی اصل حثیت کھو چکا ہے. تالاب اس قدر وسیع ہے کہ اس کی صفائی کے بعد اسے کھیل کے میدان میں تبدیل کیا جا سکتا تھا، یہاں نمازِ جنازہ، عید کی نماز، اجتماعی قربان گاہ اور حتی کہ شادی بیاہ کی تقریبات بھی یہاں منعقد ہو سکتی ہیں مگر ہماری عقل پر ماتم کیجئے کہ ہم نے اس قدر اہمیت کے حامل اور وسیع و عریض میدان کو محض کچرہ گاہ بنا دیا ہے




                                         


3





No comments:

Post a Comment