Saturday, January 20, 2024

Gurudwara Magnat Mandi Baha ud Din

 سکھ مذہب کے پانچویں گرو, گرو ارجن کے پاس "گرو گرنتھ صاحب " کا اب تک لکھے گئے تمام گروں کے کلام کا نسخہ تھا۔ گرو گرنتھ صاحب سکھ مذہب کی روحانی کتاب ہے جس میں بابا گرو نانک سے لیکر سب گروں کے علاوہ بابا فرید, بھگت کبیر اور بہت سے صوفیا کرام کے کلام درج ہیں. گرو ارجن نے مناسب یہ سمجھا کہ گرو گرنتھ صاحب ابھی جتنی بھی لکھی گئی ہے, اسے ایک جلد کی شکل کی محفوظ کرنا ضروری ہے۔ نیت ان کی یہی تھی کہ بعد میں اس میں مزید کلام شامل ہوتے رہیں گے. اس مقصد کے لئے گرو ارجن نے بھائی بنوں کو گرو گرنتھ صاحب کا وہ نسخہ دے کر لاہور بھیجا کہ وہ اسے جلد کروا کر محفوظ بنائیں. بھائی بنوں نے اس کتاب کو مکمل جانا اور گرو گرنتھ صاحب کے اس نسخے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ایک نقل بھی بنوائی اور وہ نقل لے کر اپنے آبائی گاؤں مانگٹ آ گئے جبکہ اصل گرو گرنتھ صاحب کو دربار صاحب ( گولڈن ٹیمپل) میں محفوظ کر دیا گیا۔ بھائی بنوں کے پاس جو گرو گرنتھ صاحب کا نسخہ تھا اسے "کڑی بیڑھ" کہا گیا یعنی اس میں ابھی اضافہ ہونا تھا ۔ یہ کڑی بیڑ بھی چونکہ اہمیت کی حامل تھی, اس لئے اسے ایک گوردوارہ میں محفوظ کیا گیا۔ پنجاب میں جب سکھوں کی حکومت وجود میں آئی تو مہاراجہ رنجیت سنگھ جو کہ اس گوردوارہ کی اہمیت سے آگاہ تھا, نے یہاں ایک بڑا اور قدرے مضبوط گوردوارہ بنوایا جو آج بھی موجود ہے. تقسیم کے بعد بھائی بنوں کے اس نسخے کو بھارت منتقل کر دیا گیا جو آج بھی کسی گوردوارہ میں محفوظ ہے. اس گوردوارہ میں سکھوں کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کے بھی بہت سے واقعات کو در و دیوار پر پینٹ کیا گیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو ان سبق آموز واقعات کے بارے آگاہی دینا ہے. کہیں بھگوان شیوا اور ان کی بیوی پاروتی کو پینٹ کیا گیا ہے تو کہیں بابا گرو نانک کو. کہیں گنیش آپ کو اس گوردوارہ کی دیواروں پر آپ کو نظر آتے ہیں تو کہیں ہنومان۔

مانگٹ گجرات سرگودھا روڈ پر منڈی بہاؤالدین سے بارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گوردوارہ کا مرکزی ہال ایک بارہ دری کی طرز پر بنا ہوا ہے ۔ گوجرانوالہ کے شیراں والا باغ میں بنی بارہ دری اور گوردوارہ مانگٹ دونوں ہی چونکہ ایک ہی دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تعمیر کروائے تھے, اس لئے دونوں میں ایک دوسرے کی جھلک موجود ہے.
کچھ نا سمجھ لوگوں نے ان پینٹنگ کو نقصان پہنچایا ہے جو یقینی طور پر ان افراد کا انفرادی اقدام ہی سمجھا جائے گا























No comments:

Post a Comment