Thursday, January 18, 2024

Dhouni Sb Atash Kada ( Fire House ) Gujjrat

 دھونی صاحب آتش کدہ

قلعدار گجرات
ْقصبہ قلعدار گجرات جو کہ مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں مرزا بزن بیگ نے آباد کیا تھا، میں سکھ دور میں ایک شخص منسا رام جو کہ کشمیری پنڈت تھا ، نے اس قصبہ میں سکونت اختیارکی-اس نے یہاں ایک آتش کدہ، مسافر خانہ اور باغ بنوائے- اس آتشکدہ کے لیے آگ کشمیر سے لائی گئی تھی اوراس آتش کدہ کے مندر کو دھونی صاحب کا نام دیا گیا- اس مندر میں اسی آگ کی پوجا کی جاتی تھی اور شاستر کی تعلیم بھی دی جاتی تھی-
راجا دینا ناتھ یا دیوان دینا ناتھ جو کہ کشمیری تھا، اور پنجاب میں سکھ سلطنت کے مہاراجا رنجیت سنگھ کا دیوان (وزیر خزانہ) تھا اس کشمیری پنڈت منسا رام کا مرید تھا- دینا ناتھ نے قلعہ دار کے آس پاس کے بارہ دیہات دھونی صاحب کی جاگیر قرار دے کر وقف کیے تھے-
سال میں دو دفعہ اس مندر میں یگ منایا جاتا تھا- (یگ ایک خاص عبادت ہوتی ہے جس میں قربانی دی جاتی ہے جس سے دیوتائوں کو خوش کیا جاتا ہے) اس یگ میں ہندوستان بھر سے برہمن پنڈت شامل ہوا کرتے تھے-
اس مندر کے ساتھ کافی بڑے رقبے پر تعمیرات کی گئی تھیں-اس کے گرد چار دیواری کی وجہ سے اسے قلعہ بھی کہا جاتا تھا- مندر کا مرکزی دروازہ ٹوٹ چکا ہے، کچھ ٹوٹے کمروں کے آثار اور دیواریں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں جن میں نانک شاہی اینٹیں صاف دیکھی جا سکتی ہیں- جبکہ باقی بچ جانے والے حصوں میں کشمیری مہاجرین خاندان قابض ہیں- آتش کدہ چھت پر بنایا گیا تھا جہاں تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں اب بھی موجود ہیں-
{ بقلم خود مرزا صفدر بیگ، بحوالہ گجرات مصنفہ قریشی احمد حسین قلعداری}


No comments:

Post a Comment