چنیوٹ شہر میں دریائے چناب کے اندر حضرت شرف الدین المعروف بُو علی قلندر کی چلہ گاہ ہے. بُو علی قلندر 1215ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے جبکہ ابتدائی تعلیم جس میں فقہ کی تعلیم بھی شامل تھی، وہ بھی وہی پانی پت سے ہی حاصل کی. والد نے عراق سے ہجرت کی تھی. بُو علی قلندر دہلی میں بیس سال تک مفتی اعظم کے دفتر سے بھی منسلک رہے. بعد میں مسجدِ اخوت اسلام دہلی میں درس و تدریس کے شعبہ سے منسلک ہو گئے. آپ دہلی میں ہی قاضی کے عہدے پر بھی فائز رہے. روایت ہے کہ سات سال تک دریائے جمنا میں چلہ کاٹا اور وہی پہلے حضرت نظام الدین اولیاء اور پھر قطب الدین بختیار کاکی کے مرید بنے. دریائے جمنا کے بعد آپ نے دریائے چناب کو اپنی چلہ گاہ بنایا اور دریائے چناب میں ہی موجود ایک پہاڑی پر سات یا بارہ سال تک چلہ کاٹتے رہے. 1292ء میں آپ کی وفات کرنال کے جنگلوں میں ہوئی۔ تین دنوں کے بعد جب کچھ چرواہوں نے انھیں مردہ حالت میں دیکھا تو کفن دے کر دفن کر دیا۔ بعد میں جب پانی پت میں آپ کے مریدوں کو آپ کی وفات کی خبر ملی تو انھوں نے کرنال سے جسدِ خاکی نکال کر پانی پت میں دفن کیا۔ یوں آپ کے دو مزار ہیں. ایک کرنال میں اور دوسرا پانی پت میں.
1980ء تک دریائے چناب کی پہاڑی پر ایک چھوٹے سے کمرے کی صورت میں آپ کی چلہ گاہ قائم رہی. موجودہ عمارت کی تعمیر کا آغاز 1980ء میں ہوا. موجودہ چلہ گاہ کا کُل رقبہ تین ایکڑ ہے اور اسے دریا سے دس سے پندرہ فٹ بلند بنایا گیا ہے۔ عمارت کا داخلی دروازہ مغلیہ طرز کا ہے۔ چلہ گاہ کے علاوہ اس مقام کی جانب کشش کا باعث یہاں موجود بے پناہ خوبصورت بطخیں بھی ہیں جو سارا دن دریائے چناب کی ریت اور اسی کے پانی میں کھیلتی رہتی ہیں
No comments:
Post a Comment