Tuesday, February 20, 2024

Kafir Kot Fort Dera Ismail Khan KPK

 

قلعہ کافر کوٹ
ڈیرہ اسماعیل خان سے میانوالی کی جانب دریائے سندھ کے دائیں کنارے ایک سڑک شمال کی سمت جاتی ھے- اس سڑک پر چند میل آگے جائیں تو بائیں جانب ایک پہاڑی کی چوٹٰی پر ایک قلعے کے آثار نظر آتے ھیں- یہ قلعہ کافر کوٹ ھے- یہ قلعہ بلوٹ کے بانی راجہ بل کے بھائی راجہ ٹل نے بنوایا تھا- کہتے ھیں ٹل اتنا طاقت ور تھا کہ اس کا نام طاقت کی علامت بن گیا- راجہ ٹل تو ھزار سال پہلے گذر گیا، لیکن اس کا نام آج بھی ھماری زبان کا ایک معروف محاورہ ھے- یہ جو ھم کہتے ھیں “لالا، پورا ٹل لائیم “ یہاں لفظ “ٹل“ کے معنی ھیں زور یا طاقت- اور یہ لفظ دراصل راجہ ٹل کانام تھا-
سنا ھے راجہ بل اور ٹل کا ایک تیسرا بھائی راجہ “اکل“ بھی تھا- لکی مروت / ٹانک کے علاقے میں اس نے بھی ایک قلعہ بنوایا تھا- یہ قلعے افغان قبائلیوں کے حملوں کے خلاف مدافعت کے لیے بنائے گئے تھے-
کیا عجیب لوگ ھیں یہ قبائلی بھی- ایک ھزار سال پہلے کشمیری ھندوراجاؤں کے لیے درد سر بنے رھے، دوسوسال انگریزوں کے ناک میں دم کیے رکھا، پچھلے دس پندرہ سال سے امریکہ کو “وخت“ ڈال رکھاھے،-
قلعہ کافر کوٹ ایک پراسرار ھیبت ناک سی جگہ ھے- اب تو سڑک کی وجہ سے اس کی ویرانی پہلی سی نہیں رھی- جب ھم پہلی بار وھاں گئے تو اس وقت یہ علاقہ بالکل سنسان تھا- اس دورے کے منتظم پروفیسر محمد سلیم احسن تھے- ھمارے چند اور پروفیسر دوستوں کے علاوہ کچھ سٹوڈنٹ بھی ھمارے ھمراہ تھے--
1989 میں میں نے اس قلعے کے بارے میں ایک مفصل مضمون بھی لکھا تھا، جو انگریزی کے اخبار پاکستان ٹائیمز میں شائع ھؤا تھا- اس میں میں نے یہ پکچرز بھی شامل کی تھیں جو اس پوسٹ میں آپ دیکھ رھے ھیں -- اس مضمون کی ایک کاپی لاھور میوزیم (عجائب گھر) کے ریکارڈ میں بھی شامل ھے-
یہ قلعہ بلوٹ کے قلعے سے کچھ بہتر حالت میں ھے- شمال اور جنوب کی فصیل (دیوار) کا کچھ حصہ اور دو بڑے گیٹ بھی موجود ھیں ، احاطہ خاصا وسیع ھے ٠ فوجیوں کی بیرکوں (رھائش گاہ) کے کھنڈرات کے علاوہ کچھ مند ر بھی ھیں- جنوب مشرقی کونے پر ایک دومنزلہ حفاظتی چوکی کے کچھ آثار اوپر والی پکچر میں آپ بھی دیکھ سکتے ھیں-------
قلعے کے شمال مغربی کونے پر ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر بھی ھے-
پروفیسر منورعلی ملک







Bagdad railway Station ( Image Credit To RAIL EYESHOT)

 









Akwar Khan Khatak Tomb

 



انی اکوڑہ خٹک ملک اکوڑ خان خٹک قبیلے کے پہلے سردار تھے ۔ انکا نام تو ملک اکوڑ خان تھا لیکن کہیں کہیں تاریخ کی کتابوں میں انکو صرف ملک اکو بھی لکھا گیا ھے ۔ اور پشتون بیلٹ میں کچھ لوگ انکو ملک اکوڑے بھی کہتے تھے ۔
یہ شروع میں کربوغہ گاوں میں ایے جو ٹیری کے شمال مغرب میں ھے ۔ یہاں وہ کافی عرصہ رھے اور طاقت بھی پکڑی ۔ لیکن درسمند کی طرف کے بنگش قبیلے سے جنگ میں بھی لگ گیے ۔ تو اخر کار ملک اکوڑ خان کو کربوغہ سے بھی روانہ ھونا پڑا اور اس ھمارے علاقے سے ھوتا ھوا شکردرہ تک گیا اور وھاں کے قریبی علاقے کالاباغ کے اعوانوں سے بھی جھگڑا ھو گیا تو اعوان ان کے مقابلے میں طاقتور تھے تو پھر وھاں سے بھی ھجرت کی اور شمال کی طرف گیے موجودہ اکوڑہ خٹک کے مقام پر ۔ یہاں اس نے سرایے بنایی جو سرایے اکوڑی کے نام سے مشھور ھویی ۔ اھستہ یہ ایک بڑا گاوں بن گیا ۔
مغل شہنشاہ اکبر نے انکو اس پورے علاقے کی منصبداری دے دی اس شرط پر کہ اس علاقے سے گزرنے والے تجارتی قافلوں کو باحفاظت گزرنے میں ملک اکوڑ خان مدد کرے گا اور ساتھ میں گزرنے والے تجارتی قافلوں اور مال مویشی پر ٹیکس کا اختیار بھی اکبر نے دے دیا ۔ ملک اکوڑ خان نے شہنشاہ اکبر کی یہ پیکش قبول کی اور اب وہ مزے سے اس علاقے سے گزرنے والے تجارتی قافلوں اور مال مویشی پر ٹیکس لیتا رھا ارام اور سکون سے ۔ اور پھر ملک اکوڑ خان کے بعد ان کے خاندان میں سرداری اور منصب داری کا ایک طویل سلسلہ جاری رھا ۔
پھر اس نے سرایے اکوڑی کو اپنا مرکز بنا لیا مکمل طور پر اور یہاں رھنے لگا ۔

سرایے اکوڑی کا نام بعد میں اکوڑہ خٹک رکھ دیا گیا تھا ۔
تو یہ تھی خٹک قبیلے کے اس علاقے میں پہلے سردار ملک اکوڑ خان کے بارے میں کچھ مختصر تاریخ سولہویں صدی کی ۔
اور یہ ھے ملک اکوڑ خان کے مقبرے کی پکچر ۔ اکوڑہ خٹک پشاور اور نوشہرہ کے درمیان جی ٹی روڈ پر موجودہ وقت میں ایک بہت بڑا قصبہ ھے ۔

Matt chandia D G Khan

 












Saru Wala Maqbara ( Begum Sharf Ul Nisa Tomb) Lahore

 









Tomb of Mian Nawab Lahore

 








Tomb Of Malik Sir Umer Hayyat Tiwana Sargoodha