سیالکوٹ کے دو علاقے دو بزرگوں کے نام پر آباد ہیں. ایک حمزہ غوث کا علاقہ جو پیر حمزہ غوث کے نام پر ہے اور ایک بابے بیری کا محلہ ہے جو بابا گرو نانک سے منسوب ہے بغالباً 1517ء کی بات ہے جب بابا گرو نانک سیالکوٹ تشریف لائے. اس وقت پیر حمزہ غوث اور اہلِ علاقہ کے درمیان کسی بات پر تنازعہ چل رہا تھا. عوام نے معاملہ بابا گرونانک کے گوش گزار کیا کہ اب وہی اس معاملے کو دیکھیں. بابا گرو نانک پیر حمزہ غوث کے پاس تشریف لے گئے اور معاملے کو رفع دفع کروایا. اس طرح شہر بھر میں بابا گرو نانک کی دھوم مچ گئی. بابا گرو نانک بیری کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر لوگوں کی اصلاح کرتے. اسی مناسبت سے یہ علاقہ پہلے بابے دی بیری کے نام سے مشہور ہوا اور اب یہ صرف بابے بیری کے نام سے جانا جاتا ہے. جس جگہ یہ درخت تھا، بلکہ ہے وہاں ایک گرودوارہ تعمیر کیا گیا. جسے گردوارہ بابے دی بیری کہا جاتا ہے. رنجیت سنگھ کا دور آیا تو اس نے پنجاب بھر کے گردواروں پر توجہ دی. اس گردوارے پر بھی سنگِ مرمر لگایا گیا جو آج بھی وہاں نصب ہے. وقت کا بے لگام گھوڑا سر پٹ دوڑا اور سن 47ء آ گیا. تقسیم ہوئی، یہاں سے اکثریتی سکھ ہجرت کر کے مشرقی پنجاب چلے گئے. کیوں گئے؟ انھیں جانا چاہئیے تھا یا نہیں، یہ ایک الگ بحث ہے ۔ بات کڑوی ہے مگر سچ ہے کہ جب پجاری نہ ہوں تو خدا متروک ہو جایا کرتے ہیں. بیشتر گردواروں کی طرح گردوارہ بابے دی بیری بھی بند ہو گیا. کیسے آباد رہتا اور اسے کون آباد رکھتا. جب پجاری ہجرت کر گئے تو گردوارہ کو کون آباد رکھتا. پنجاب کے بیشتر گردواروں کی طرح یہاں بھی قبضہ ہوا. یہاں نشہ کے عادی لوگوں کا مستقل اڈا بن گیا. عجب بات تھی کہ گردوارہ بابے دی بیری ہر شخص آ سکتا تھا۔ اگر کسی کے یہاں آنے پر پابندی تھی تو وہ اسی مذہب کے ماننے والوں پر تھی. پھر نہ جانے کیوں اور کہاں سے ایک سر پھرا آیا۔ بابا جی نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور 2012 میں اس گردوارہ کو محکمہ اوقاف سے آزاد کروا لیا گیا. کچھ مناسب انتظامات کر کے 2013 میں اسے سکھوں کی عبادت کے لئے کھول دیا گیا۔ تب سے یہاں مناسب تعمیرات ہوتی رہی ہیں۔ حال ہی میں یہاں نیا کچن اور وسیع لنگر خانہ تعمیر کیا گیا ہے. بیری کے درخت کے نیچے وہی سنگِ مر مر لگایا گیا ہے جو رنجیت سنگھ نے گردوراہ میں لگوایا تھا. ہر اتوار یہاں سنگت ہوتی ہے. پاٹ پڑھا جاتا ہے اور دنیا جہاں کے مظلوموں کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں
No comments:
Post a Comment