بہرام کی بارہ دری
اٹک خورد میں جی ٹی روڈ کے ساتھ کئی تاریخی عمارات پائی جاتی ہیں- جن میں اٹک مقبرہ، مندر، سمادھیاں وغیرہ شامل ہیں- انہی میں سے ایک بہرام کی بارہ دری بھی ہے- اس کی صحیح تاریخ تلاش کرنا کافی مشکل ہے- لوگوں نے ایک ہی مضمون کو پیسیوں جگہ کاپی کیا ہوا ہے- جس کہ مطابق اسے 1681 میں تعمیر کیا گیا تھا.
اس مضمون کے مطابق:
''ایک رائے یہ ہے کہ مغل بادشاہ اکبر کے حکم پر سپہ سالار بہرام نے اسے تعمیر کرایا تھا اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ مغل پادشاہ اکبر کی لاڈلی بیٹی جہاں آراء کے حکم پر یہ بارہ دری تعمیر کرائی گئی تھی اس لیے اسے بہرام کی بارہ دری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے.
بارہ دری کے محافظ کے مطابق اس بارہ دری کو اکبر بادشاہ نے پنچایت گھر کے طور پر تعمیر کرایا تھا.
بادشاہ یہاں لوگوں کے معاملات کو سنتا ، فیصلے کرتا اور سزاؤں پر عمل درآمد کیا جاتا.
بارہ دری میں ایک کنواں بھی کھودا گیا تھا جو اب تک قریبی بستیوں کو سیراب کر رہا ہے.
ٹوٹی سرخ اینٹوں اور پتھروں سے بنی اس بارہ دری کے گرد ایک مضبوط چار دیواری بنائی گئی تھی.''
اکبر کا کون سا سالار بہرام خان تھا؟ اس کے بارے میں کم از کم مجھے اکبری دور کے امراء وغیرہ میں یہ نام پڑھنے کو نہیں ملا جس نے یہ بارہ دری تعمیر کروائی ہو- اگر یہ واقعی اکبری دور کا کوئی سالار وغیرہ ہوتا تو کہیں نہ کہیں اس کا تذکرہ ضرور ملتا-
ہمارے عزیز دوست جناب اعجاز احمد صاحب کی تحریر کے مطابق:
''خوشحال خان کے ایک بیٹے کا نام بہرام خان تھا۔۔وہ اپنے والد کا سیاسی مخالف اور مغل بادشاہ کا وفادار تھا،،اقتدار کی جنگ میں ایسی انہونیاں ھو جاتی ھیں۔۔۔اس نے والد کے خلاف جنگیں لڑیں مگر اکثر میں ناکام ھوا۔۔۔۔۔عہد عالمگیر میں 1681 میں بہرام خان نے قلعہ اٹک کے پاس یہ عمارت بنوای۔۔۔جو آج بھی بہرام کی بارہ دری کہلاتی ھے۔۔۔بہرام خان کی وفات ضلع نوشہرہ میں ھوی۔''
اس بارے میں مزید کھوج لگانے کی ضرورت ہے-
{ بقلم خود مرزا صفدر بیگ }
No comments:
Post a Comment